Thread: Gulaab Khwahish
View Single Post
  #1 (permalink)  
Old 05-07-2008, 11:25 AM
ahman ahman is online now
Junior Member
Points: 83, Level: 1
Points: 83, Level: 1Points: 83, Level: 1Points: 83, Level: 1
Activity: 5%
Activity: 5%Activity: 5%Activity: 5%
 
Join Date: May 2008
Posts: 15
Thanks: 2
Thanked 0 Times in 0 Posts
Rep Power: 0
ahman is on a distinguished road
Default Gulaab Khwahish

Ahmed Manzoor, Mumbai, India
ahmedmanzooor@gmail.com

[color="Magenta"]گلاب خواہش

فضا میں چاروں طرف دھواں ہی دھواں بھرا تھا
سبھی مناظر تھے خواب منظرکہ جن کو دیکھیں
تو جی میں آئے کہ ہاتھ اپنے بڑھاکے چھولیں
مگر بڑھے جب بھی ہاتھ میرے تو میں نے دیکھا
کہ خواب منظر مری پہونچ سے ہیں دور اتنے کہ جتنا دھرتی سے آسماں ہے
گمان گذرا یہ خواب پیہم عذاب شاید کبھی نہ ٹوٹے
مگر تبھی اس زمیں کے سینے میں نرم خواہش نے سر ابھارا
گلاب مہکے اے کاش کوئی گلاب مہکے
زمیں کے سینے کی نرم خواہش نے روپ دھارا
گلاب مہکا،شباب مہکا، شتاب مہکا
فضا کا سارا دھواں، دھویں کی گھٹن، گھٹن کی تمام تر
سازشوں کے پردوں کو چاک کرکے وہ نور نکلا
کہ جس نے دھرتی سے آسماں تک
تمام مہتابیاں کھلادیں
گلاب کانٹوں پہ کھل رہا تھا
عذاب سر پر دھرا ہوا تھا
مگر لبوں پر وہ موہنی مسکراھٹوں کی حسین پریاں
سجا رہا تھا
گلاب مظہر روایتوں کا
گلاب گلشن کا پاسباں تھا
وہ رہنما تھا، وہ راہبر تھا
جو اب بھی دنیا میں چلنے والی
ہوا کی سانسوں میں گونجتا ہے
جو اب بھی کھیتوں میں اگنے والی
ہر ایک بالی سےجھانکتا ہے
یہ دیکھتا ہے کہ اب بھی گلشن فضا میں چاروں طرف
دھواں ھی دھواں بھراہے
میں سوچتا ہوں کہ کاش میری بھی خواہشیں روپ دھار سکتیں تو میں بھی کھتا
گلاب مہکے
شباب مہکے
شتاب مہکے
کاش کوئی گلاب مہکے
-------------------
Reply With Quote

Sponsored Links