کہتے ہیں مجھے عشق کا افسانہ چاہیے
استاد قمر جلالوی کی غزل
کہتے ہیں مجھے عشق کا افسانہ چاہیے
رسوائی ہو گئی تمھیں شرمانا چاہیئے
خوددار اتنی فطرتِ رندانہ چاہیئے
ساقی یہ خود کہے تجھے پیمانہ چاہیئے
عاشق بغیر حسن و جوانی فضول ہے
جب شمع جل رہی ہو تو پروانہ چاہیئے
آنکھوں*میں دم رُکا ہے کسی کے لیے ضرور
ورنہ مریضِ ہجر کو مر جانا چاہیئے
وعدہ تھا انکا رات کے آنے کا اے قمر
اب چاند چھپ گیا انہیں آ جانا چاہیئے
قمر جلالوی